ابنا: فرانس، سعودي عرب، امريکہ، ترکي، قطر، برطانيہ، جرمني ، اٹلي، اردن، مصر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ پر مشتمل نام نہاد فرينڈز آف سيريا گروپ کا ايسے وقت ميں اجلاس ہوا ہے جب شام کے اندر اور باہر موجود حکومت مخالفين اور مسلح گروہوں کے درميان اختلافات شدت اختيار کرگئے ہيں۔جنيوا دو اجلاس ميں شرکت کي غرض سے شام مخالف اتحاد ميں پائے جانے والے اختلافات کو دور کرنا اس اجلاس کا مقصد بتايا جاتا ہے تاہم يہ اجلاس کسي طرح کي ہماہنگي پيدا کرنے ميں ناکام ہوگيا ہے۔ اجلاس کے ميزبان کي حثيت سے فرانس کے وزير خارجہ نے اپنے ايک بيان ميں دعوي کيا ہے کہ جنيوا دو اجلاس وقت مقررہ پر ہوگا اور اس ميں شام ميں انتقال اقتدار کے معاملے پر غور کيا جائےگا۔ پيرس اجلاس کے اختتامي بيان ميں مغرب اور عرب ملکوں کے حمايت يافتہ دہشتگردوں کے مجرمانہ اقدامات اور انکي حمايت بند کئے جانے کي جانب کوئي اشارہ کئے بغير، پچھلے موقف کا اعادہ کيا گيا ہے۔
.......
/169